نئی دہلی 20/ڈسمبر (ایس او نیوز) اراکین پارلیمنٹ کی معطلی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے انڈیا اتحاد نے 22 ڈسمبر کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کی اطلاع کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے بتائی۔
نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کے لیڈروں کی چوتھی میٹنگ کے اختتام پر ملیکارجن کھرگے نے بتایا کہ دو گھنٹے سے بھی زیادہ چلی اس میٹنگ میں 28 پارٹیوں کے لیڈران نے شرکت کی جس میں 141 اراکین پارلیمان کو پارلیمنٹ سے معطل کرنے کے خلاف قرارداد پاس کی گئی اور 22 دسمبر کو اس کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔کھرگے نے بتایا کہ میٹنگ میں اراکین پارلیمان کی معطلی کو غیر جمہوری قرار دیا گیا اور اس کی سخت مذمت کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کوئی غلط ایشو نہیں اٹھایا ہے۔ہم وزیر داخلہ یا وزیر اعظم سے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ ایوان میں کیسے گھسے، انھیں کون لایا۔ لیکن اس کا جواب دینے کے بجائے پی ایم مودی اپنے پارلیمانی حلقہ میں گھوم رہے ہیں، مگر اس ایشو پر جواب نہیں دے رہے ہیں۔ اگر ہمیں جمہوریت کو بچانا ہے تو پھر ہمیں مل کر یہ لڑائی لڑنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اراکین پارلیمنٹ کو معطل کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سوچ رہے ہیں کہ ملک پر حکومت کرنے میں ان سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ لیکن ہم ان کی ذہنیت کو بدلنے کے لیے متحد ہو گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میٹنگ میں آئندہ لوک سبھا انتخابات کو پوری مضبوطی کے ساتھ مل کر لڑنے کا عزم ظاہر کیا گیااور جلد از جلد ریاستی سطح پر سیٹ شیئر کرنے اور ملک بھر میں مشترکہ ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ 13 دسمبر کو دو افراد نے وزیٹرس گیلری سے لوک سبھا کے چیمبر میں چھلانگ لگائی تھی اور ایوان کی کارروائی کے دوران دھوئیں کے ڈبے کھول دئے تھے۔ سیکورٹی کی اتنی بڑی چھوٹ کو لے کر جب اراکین پارلیمان نے سوال اٹھانے شروع کئے تو سوال اٹھانے والے اراکین پارلیمان کو ہی معطل کیا گیا۔
کھڑگے نے بتایا کہ انڈیا اتحاد کی طرف سے وزیر اعظم امیدوار کون ہوگا اس کا فیصلہ لوک سبھا انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے بعد لیا جائے گا۔ ہمارا پہلا کام ہے الیکشن جیتنا، اس کے بعد ہم باقی امور طے کریں گے۔ ہمیں پہلے جیت حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
انڈیا اتحاد کی میٹنگ کے تعلق سے سی پی آئی (ایم) لیڈر سیتارام یچوری نے بتایا کہ میٹنگ میں ای وی ایم کے تعلق سے بھی بات چیت ہوئی ہے اور ایک قرارداد پاس کی گئی ہے۔ ہم اس معاملے کو انتخابی کمیشن کے سامنے اٹھائیں گے۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بتایا کہ یہ ایک بہت ہی کامیاب اور مثبت میٹنگ تھی، سبھی لیڈران نے اپنی اپنی بات رکھی۔ خاص توجہ سیٹ شیئرنگ کو آخری شکل دینے پر تھی۔ بہت ساری چیزوں پر بحث ہوئی لیکن سب کچھ آج ہی طے نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سیٹ شیئرنگ پر تبادلہ خیال فوراً شروع کرنے پر زور دیا گیا۔